36:25 — یس

Ya-Sin|Surah 36يس

سورۃ یس — آیت ۲۵

36:25
إِنِّيٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمۡ فَٱسۡمَعُونِ
میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو
سنیں
0:00
—
تفسیر

آیت 25 { اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ } ”میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں ‘ سو میری بات سنو !“ یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول علیہ السلام تمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔ اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘ کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے افراد تھے ‘ لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ”اعلانِ بغاوت“ کو وہ برداشت نہ کرسکے ‘ چناچہ اللہ کے اس بندے کو اسی لمحے شہید کردیا گیا۔

تلفظ
Inneee aamantu bi Rabbikum fasma'oon
اس آیت کے موضوعات
مومن کی طرف سے رسولوں کی پیروی کی تلقین دعوة مؤمن آل ياسين لاتباع المرسلين
لفظ بلفظ
إِنِّيٓ innī Indeed,I
ءَامَنتُ āmantu [I] have believed
بِرَبِّكُمۡ birabbikum in your Lord
فَٱسۡمَعُونِ fa-is'maʿūni so listen to me
موضوعات
◆دعوت الی اللہ اور راہِ حق میں قربانیالدعوة إلى الله والاستشهاد في سبيله