آیت 25 { اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ } ”میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں ‘ سو میری بات سنو !“ یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول علیہ السلام تمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔ اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘ کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے افراد تھے ‘ لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ”اعلانِ بغاوت“ کو وہ برداشت نہ کرسکے ‘ چناچہ اللہ کے اس بندے کو اسی لمحے شہید کردیا گیا۔
راہ حق کا شہید ٭٭
وہ نیک بخت شخص جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب و تردید اور توہین ہوتی دیکھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اور جس نے اپنی قوم کو نبیوں کی تابعداری کی رغبت دلائی تھی وہ اب اپنے عمل اور عقیدے کو ان کے سامنے پیش کر رہا ہے اور انہیں حقیقت سے آگاہ کر کے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، تو کہتا ہے کہ میں تو صرف اپنے خالق مالک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ہی عبادت کرتا ہوں جبکہ صرف اسی نے مجھے پیدا کیا ہے تو میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں؟ پھر یہ نہیں کہ اب ہم اس کی قدرت سے نکل گئے ہیں؟ اس سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ہو؟ نہیں بلکہ سب کے سب لوٹ کر پھر اس کے سامنے جمع ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہ ہر بھلائی برائی کا بدلہ دے گا۔ یہ کیسی شرم کی بات ہے کہ میں اس خالق و وقار کو چھوڑ کر اوروں کو پوجوں جو نہ تو یہ طاقت رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی کسی مصیبت کو مجھ سے ٹال دیں، نہ یہ کہ ان کے کہنے سننے کی وجہ سے مجھے کوئی برائی پہنچے، اللہ اگر مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اسے دفع نہیں کر سکتے روک نہیں سکتے نہ مجھے اس سے بچاسکتے ہیں، اگر میں ایسے کمزوروں کی عبادت کرنے لگوں تو مجھ سے بڑھ کر گمراہ اور بہکا ہوا اور کون ہو گا؟
پھر تو نہ صرف مجھے بلکہ دنیا کے ہر بھلے انسان کو میری گمراہی کھل جائے گی۔ میری قوم کے لوگو! اپنے جس حقیقی معبود اور پروردگار سے تم منکر ہوئے ہو۔ سنو میں تو اس کی ذات پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ بھی معنی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ اس اللہ کے بندے مرد صالح نے اب اپنی قوم سے روگردانی کر کے اللہ کے ان رسولوں سے یہ کہا ہو کہ اللہ کے پیغمبرو! تم میرے ایمان کے گواہ رہنا! میں اس اللہ کی ذات پر ایمان لایا جس نے تمہیں برحق رسول بنا کر بھیجا ہے، پس گویا یہ اپنے ایمان پر اللہ کے رسولوں کو گواہ بنا رہا ہے۔ یہ قول بہ نسبت اگلے قول کے بھی زیادہ واضح ہے واللہ اعلم۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ تمام کفار پل پڑے اور زدوکوب کرنے لگے۔ کون تھا جو انہیں بچاتا؟ پتھر مارتے مارتے انہیں اسی وقت فی الفور شہید کر دیا «رضی اللہ عنہ وارضاہ» یہ اللہ کے بندے یہ سچے ولی اللہ پتھر کھا رہے تھے لیکن زبان سے یہی کہے جا رہے تھے کہ اللہ میری قوم کو ہدایت کر یہ جانتے نہیں۔
صفحہ نمبر7341
انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔
انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان کیا اور اس پر اس نے خود ان کو گواہ ٹھہرایا۔ اشارہ یہ دیا کہ جس طرح میں ایمان لایا ہوں تم بھی ایمان لاؤ کیونکہ میں جس رب پر ایمان لایا ہوں وہ تمہارا ہی رب ہے یا یہ کہ سن لو میں ایمان لایا ہوں جو چاہو کرو ، جو چاہو کہو۔
اس کے بعد اس رجل مومن کی تقریر پر جو تبصرہ آتا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اس شخص کو تو وہیں شہید کردیا۔ اگرچہ قرآن کریم نے اس کی صراحت نہیں کی۔ لیکن اس قصے کا وہ منظر جو اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ دنیا اور اس کے اندر اس کی قوم کے ساتھ یہ مکالمہ ختم ہوتا ہے۔ اب یہ شہید آخرت میں نظر آتا ہے۔ جس نے کلمہ حق بلند کیا ، جس نے اپنی فطرت کی پکار پر لبیک کہا ، اور جس نے اپنے ایمان کا اعلان ان لوگوں کے سامنے جہارا کیا جو نبیوں کو بھی قتل اور تشدد کی دھکمیاں دے رہے تھے۔ اب یہ شخص عالم آخرت میں ہے۔ وہاں اللہ کے ہاں اس کا عظیم استقبال ہو رہا ہے۔ جیسا کہ مومنین صادقین اور شہداء کا وہاں ہوتا ہے۔
[25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘
[26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔
مردِ حق نے اپنی زندگی خطرہ میں ڈال کر پیغمبروں کی دعوت کی تائید کی تھی۔ اس کا یہ عمل اتنا قیمتی تھا کہ اس کے بعد اس کو جنت میں داخل کردیا گیا۔ جنت میں داخل ہونے کے بعد وہ اپنی ظالم قوم کو برا نہیں کہتا۔ بلکہ یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش وہ لوگ میرا انجام جانتے تو وہ حق کے مخالف نہ بنتے۔ یہ سچے مومن کی تصویر ہے۔ مومن ہر حال میں لوگوں کا خیر خواہ ہوتاہے، خواہ لوگ اس کے ساتھ کیسا ہی ظالمانہ سلوک کریں۔