آیت 108 وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًاجب قرآن کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ علمائے یہود میں لازماً کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس طرح کے خیالات کے حامل ہوں گے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہ کی نبوت کے بارے میں اطلاعات تو یہود مدینہ کو ملتی رہتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کی کچھ آیات بھی ان تک ضرور پہنچ چکی ہوں گی۔ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ان کے بعض اہل علم نہ صرف قرآن کو پہچان کر اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوں بلکہ ان کی زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ بھی آگئے ہوں کہ اللہ نے جو آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا وہ تو آخر پورا ہونا ہی تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو بائبل کی کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیت 18 اور 19 میں ان الفاظ میں آج بھی موجود ہے کہ اے موسیٰ میں ان کے بھائیوں بنی اسرائیل کے بھائی یعنی بنو اسماعیل میں تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ لوگوں سے وہی کچھ کہے گا جو میں اسے بتاؤں گا۔
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔
صفحہ نمبر4830
یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔
یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔
ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔
[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔
خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔
اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔
تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔