17:108 — بنی اسرائیل

Al-Isra|Surah 17الإسراء

سورۃ بنی اسرائیل — آیت ۱۰۸

17:108
وَيَقُولُونَ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُولٗا
اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا
سنیں
0:00
—
تفسیر

آیت 108 وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًاجب قرآن کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ علمائے یہود میں لازماً کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس طرح کے خیالات کے حامل ہوں گے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہ کی نبوت کے بارے میں اطلاعات تو یہود مدینہ کو ملتی رہتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کی کچھ آیات بھی ان تک ضرور پہنچ چکی ہوں گی۔ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ان کے بعض اہل علم نہ صرف قرآن کو پہچان کر اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوں بلکہ ان کی زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ بھی آگئے ہوں کہ اللہ نے جو آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا وہ تو آخر پورا ہونا ہی تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو بائبل کی کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیت 18 اور 19 میں ان الفاظ میں آج بھی موجود ہے کہ اے موسیٰ میں ان کے بھائیوں بنی اسرائیل کے بھائی یعنی بنو اسماعیل میں تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ لوگوں سے وہی کچھ کہے گا جو میں اسے بتاؤں گا۔

تلفظ
Wa yaqooloona Subhaana Rabbinaaa in kaana wa'du Rabbinaa lamaf'oolaa
اس آیت کے موضوعات
اہلِ علم کی جانب سے اللہ کی تسبیح اور اس کے سچے وعدے کا اقرار تسبيح الله والإقرار بنفاذ وعده الحق
لفظ بلفظ
وَيَقُولُونَ wayaqūlūna And they say
سُبۡحَٰنَ sub'ḥāna Glory be to
رَبِّنَآ rabbinā our Lord
إِن in Indeed
كَانَ kāna is
وَعۡدُ waʿdu (the) promise
رَبِّنَا rabbinā (of) our Lord
لَمَفۡعُولٗا lamafʿūlan surely fulfilled
موضوعات
◆اہلِ علم کا خشوع و خضوعخشوع وخضوع أهل العلم الصادقين