آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اور صرف اسی کے لیے منصوبہ بندی محنت اور دوڑ دھوپ کرے اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کردیتا ہے ‘ مگر ضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس“ عاجلہ“ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو کامیاب ٹھہرے بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کردیتے ہیں مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔ چناچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًااس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی چناچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہوگا۔
طالب دنیا کی چاہت ٭٭
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ [مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔
صفحہ نمبر4668
من کان یرید لعاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نریدثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموما مدحورا (71 : 81) ” جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں ، پھر اس کے مقسو میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر “۔ مذموم اور ملامت زدہ اس لئے کہ اس نے یہی کمائی کی اور رحمت سے محروم یوں کہ وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔
جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔
موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔
ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔
اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔
پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔