آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًایہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟
مجرمانہ سوچ پر تبصرہ ٭٭
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو بلکہ زندہ درگور کر دو انہیں اللہ کے لیے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ
«وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا * لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا * تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا * أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا * وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا * إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا * لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا * وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95]
یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتاً انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہو جائے، پہاڑ چورا چورا ہو جائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔
صفحہ نمبر4699
درس نمبر 721 ایک نظر میں۔
دوسرے سبق کا آغاز و انجام عقیدہ توحید کے بیان اور رد شرک کے مضمون کے ساتھ ہوا ، اور اس آغاز و انجام کے درمیان بیشمار احکام امرو ونہی اور بیشمار آداب و اخلاق بیان ہوئے جو سب کے سب عقیدہ توحید کے ساتھ مربوط تھے اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے تھے۔ اس سبق کا آغاز و انجام بھی شرک کی ایک مخصوص قسم کے رد کے ساتھ ہوتا ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے لیے بیٹا ہونا ایک ایسا نظریہ ہے جس کی کمزوری اور لچرپن بالکل واضح ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اللہ وحدہ کی مخلوق ہے اور سب چیزیں اس ثنا خواں اور تسبیح گویا ہیں۔
وان من شئی الا یسبح بحمدہ (71 : 44) ” جو چیز بھی ہے وہ اس کی تعریف کے ساتھ اس کی ثنا خواں ہے “۔ اور تمام اشیاء کا انجام ایک ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور جو چیزیں بھی زمین و آسمان میں ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اور اللہ وحدہ اپنی مخلوقات کے اندر جو تصرفات بھی کرتا ہے ، کوئی اس کے معامالت میں اس سے باز پرس نہیں کرسکتا۔
ان یشاء یرحمکم او ان یشاء یعذبکم (71 : 45) ” اگر چاہے تو تم پر رحم کردے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے “۔
اس سبق کے درمیان بتایا جاتا ہے کہ شرکیہ عقائد کمزور اور غیر معقول ہیں اور ذات باری تعالیٰ وحدہ ، حاکم ، مطاع ، ضاحب قدرت ، متصرف اور تمام معاملات کائنات میں خود مختار ہے۔ اور اسے کوئی بھی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ دنیاوی امور میں اس کے ہاتھ میں ہیں ، اخروی بھی اس کے ہاتھ میں ہیں ، ظاہری بھی اور خفیہ بھی۔ اور یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے ، اس کی طرف متوجہ ہے اور اس کی تعریف اور تسبیح کرتی ہے۔ اور اس کام میں انسان ، حیوان ، چرند ، پرند اور تمام اشیاء شامل ہیں۔
یہ استفہام انکاری ہے ، اور یہ انداز اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب کو یہ بتانا مقصو ہو کہ تمہاری یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اللہ بیوی ، اولاد ، مثلا اور مثال سے پاک ہے۔ اور اس کا کوئی شبیہ او کوئی شریک نہیں ہے۔ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے لئے تو لڑکیوں کو معیوب سمجھتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور خود رزق کے خوف ور عار لاحق ہونے کی وہج سے بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں اور اس کے باوجود فرشتوں کو لڑکیاں قرار دیتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ تو اگر لڑکے اور لڑکیاں دینے والا اللہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے جو درجے میں لڑکوں سے کم ہیں۔
یہ ستدلال محض اس کے رواج کے مطابق کیا گیا ، کیونکہ ان کے ہاں لڑکوں کو برا سمجھا جاتا تھا اور لڑکوں کو اچھا تاکہ یہ بتایا جائے کہ کود ان کے تصورات کے مطابق بھی۔ ان کا قول کمزور ہے۔ ورنہ بات درحقیقت اپنی اصل ہی سے غلط تھی۔
انکم لتقولون قولا عظیما (71 : 04) ” بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبان سے نکالتے ہو “۔ یہ برائی کے اعتبار سے بہت ہی بڑی بات ہے اور یہ اللہ کی شان میں بری جسارت ہے اور نہایت ہی گندی بات ہے اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور اسلامی عقائد ، قرآنی آیات اور حقائق کے ساتھ متصادم ہے اور ناقابل یقین و تصدیق ہے۔
کیا چن لیا ہے تمھیں تمھارے رب نے ساتھ بیٹوں کےاور بنا لیا (خود) فرشتوں کو بیٹیاں ؟ بلاشبہ تم البتہ کہتے ہو بات بہت بڑی (خطرناک)(40)
[40] یہ اس شخص پر نہایت شدت سے نکیر ہے جس کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے بنابریں فرمایا: ﴿اَفَاَصۡفٰىكُمۡ رَبُّكُمۡ بِالۡبَنِيۡنَ ﴾ ’’کیا تمھارے رب نے تم کو لڑکے دیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چن کر تمھارے لیے کامل ترین حصہ مقرر کر دیا اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا… کیونکہ مشرکین کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’بے شک تم کہتے ہو بھاری بات۔‘‘ تمھارا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کر دی۔ تمھارا قول اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور اس کی کچھ مخلوق اس سے بے نیاز ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے حق میں اولاد کی دونوں قسموں میں سے زیادہ ردی قسم کا فیصلہ کیا یعنی تم نے اس کی طرف بیٹیوں کو منسوب کر دیا، حالانکہ اس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھیں بیٹے عطا كيے۔ پس بہت بلند ہے اللہ تعالیٰ اس بات سے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔