17:40 — بنی اسرائیل

Al-Isra|Surah 17الإسراء

سورۃ بنی اسرائیل — آیت ۴۰

17:40
أَفَأَصۡفَىٰكُمۡ رَبُّكُم بِٱلۡبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنَٰثًاۚ إِنَّكُمۡ لَتَقُولُونَ قَوۡلًا عَظِيمٗا
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
سنیں
0:00
—
تفسیر

آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًایہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟

تلفظ
Afa asfaakum rabbukum bilbaneena wattakhaza minal malaaa'ikati inaasaa; innakum lataqooloona qawlan 'azeema
اس آیت کے موضوعات
فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے کے دعوے کی تردید إنكار نسبة البنات والملائكة لله تعالى
لفظ بلفظ
أَفَأَصۡفَىٰكُمۡ afa-aṣfākum Then has your Lord chosen (for) you
رَبُّكُم rabbukum Then has your Lord chosen (for) you
بِٱلۡبَنِينَ bil-banīna sons
وَٱتَّخَذَ wa-ittakhadha and He has taken
مِنَ mina from
ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ l-malāikati the Angels
إِنَٰثًاۚ ināthan daughters
إِنَّكُمۡ innakum Indeed,you
لَتَقُولُونَ lataqūlūna surely say
قَوۡلًا qawlan a word
عَظِيمٗا ʿaẓīman grave
موضوعات
◆مشرکین کے باطل نظریات کی تردیدإبطال شبهات المشركين في العقيدة