سورۃ النور — آیت ۸
آیت 7 وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ”اس طرح ایسے شخص کی مذکورہ گواہی چار گواہوں کے برابر سمجھی جائے گی۔
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10)
[7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔
[9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔
[10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔
داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔
حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔