آیت 32 فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ الاَّ الضَّلٰلُج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو ‘ زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاں تک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گرجاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے ؟
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی “۔
«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» [67-الملک:21] ” اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے “۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» [6-الأنعام:46] ” کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا “۔
اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» [55-الرحمن:29] ” آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے “۔
کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3688
فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔
صفحہ نمبر3689
فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔
[32]﴿فَذٰلِكُمُ ﴾ ’’پس یہی‘‘ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمُ ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الۡحَقُّ١ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ﴾ ’’اور وہ حق ہے۔ پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟‘‘ یعنی وہ تمھارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو‘‘ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جو خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں ۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتیں ۔
انسان کو رزق کی ضرورت ہے۔ یہ رزق انسان کو کیسے ملتاہے۔ کائنات کے مجموعی عمل سے۔ ساری کائنات حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص رخ پر عمل کرتی ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے لیے وہ رزق فراہم ہو جس کے بغیر اس کا وجود اس سرزمین پر ممکن نہیں۔ خدائی کے مفروضہ شرکاء یا دیوی دیوتا خود مشرکین کے عقیدہ کے مطابق، انسان کے لیے رزق فراہم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ ہر مفروضہ شریک کسی جزء کا معبود ہے، اور جزء کا معبود کبھی ایسے واقعہ کو ظہور میں نہیں لا سکتا جو کل اجزا کی موافقت سے ظہور میں آتاہو۔
اسی طرح مثلاً انسان کے اندر کان اور آنکھ جیسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہیں۔ وہ بھی کسی دیوتا کی دی ہوئی نہیں ہوسکتی۔ دیوی دیوتا یا تو خود ان صلاحیتوں سے محروم ہیں یا اگر کسی مفروضہ معبود کے اندر یہ صلاحیتیں ہوں تو وہ ان کا خالق نہیں۔ حتی کہ خود اس سے یہ صلاحیتیں ویسے ہی چھن جاتی ہیں جیسے عام انسانوں سے چھن جاتی ہیں۔ اسی طرح بے جان چیزوں میں جان ڈالنا اور جان دار کو بے جان کردینا بھی مفروضہ معبودوں کے لیے ممکن نہیں۔ نہ اس کا کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی پوجنے والا ان کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتاہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ چیزیں ان معبودوں سے انسان کو ملیں۔
کیسی عجیب بات ہے کہ انسان ایک بڑے خدا کو مانتا ہے۔ اس کے باوجود وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتاہے جو اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کا ڈر نہیں۔ جھوٹے خیالات کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو یہ تسلی دے لی ہے کہ خدا اس سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اگر باز پرس کی نوبت آئی تو اس کی مدد پر ایسی ہستیاں ہیں جو خدا کے یہاں سفارش کرکے اس کو بچالیں — ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتاہے۔ جب کسی کے دل سے ڈر نکل جائے تو اس کو غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ ایسا آدمی سرکش ہوجاتا ہے، اور سرکش آدمی کبھی سچائی کا اعتراف نہیں کرتا۔