10:42 — یونس

Yunus|Surah 10يونس

سورۃ یونس — آیت ۴۲

10:42Command
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں
سنیں
0:00
—
تفسیر

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یَعْقِلُوْنَ یہ لوگ تو پہلے سے ہی نہ سننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ‘ اس لیے ان کے کان حق کی طرف سے بہرے ہوچکے ہیں۔ ان کا آپ ﷺ کی باتوں کو سننا صرف دکھاوے کا سننا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو بتاسکیں کہ ہاں جی ہم تو محمد کی محفل میں بھی جاتے ہیں ‘ ساری باتیں بھی سنتے ہیں مگر ان میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جسے ماناجائے۔

تلفظ
Wa minhum mai yastami'oona iliak; afa anta tusmi'us summa wa law kaanoo la ya'qiloon
اس آیت کے موضوعات
بغیر فائدے کے ظاہری سماعت الاستماع الظاهري دون انتفاع عقل معطل کرنے والے بہروں کو سنانے میں بشر کی بے بسی عجز البشر عن إسماع الصم المعطلين لعقولهم
لفظ بلفظ
وَمِنۡهُم wamin'hum And among them
مَّن man (are some) who
يَسۡتَمِعُونَ yastamiʿūna listen
إِلَيۡكَۚ ilayka to you
أَفَأَنتَ afa-anta But (can) you
تُسۡمِعُ tus'miʿu cause the deaf to hear
ٱلصُّمَّ l-ṣuma cause the deaf to hear
وَلَوۡ walaw even though
كَانُواْ kānū they [were]
لَا lā (do) not
يَعۡقِلُونَ yaʿqilūna use reason
موضوعات
◆معنوی بہرا پن اور عقل کا معطل ہوناالصمم المعنوي وتعطيل العقل