سورۃ يونس کا جائزہ (یونس)

قرآن میں تلاش
سورہ · 10 از 114
يونس یونس Jonah
مکی◉ پارہ 11109 آیات12 تصورات
پارے کا دورانیہ
سورہ کے بارے میں

سورہ یونس قرآن کی 10ویں سورت ہے۔ اس کی 109 آیات ہیں جو مکہ میں نازل ہوئیں، اور اس کے بنیادی موضوعات الٰہیات، روحانیت اور کائناتیات ہیں۔ اس میں موسیٰ اور بنی اسرائیل کا نمایاں ذکر ہے۔

موضوعاتی تفصیل

آیات 1–2053
  • 1قرآنِ کریم بحیثیت کتابِ حکیم
  • 1کتابِ حکیم کی نشانیاں اور آیات
  • 2انذار اور بشارت
  • 2اہل ایمان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ
  • 2رسولوں پر جادوگری کا جھوٹا الزام
  • 2رسولوں کا انسان ہونا
  • 3آسمانوں اور زمین کی چھ دنوں میں تخلیق
  • 3شفاعت کا اللہ کی اجازت پر موقوف ہونا
  • 3عبادت میں اللہ کو یکتا ماننا
  • 3عرش پر استوا اور تدبیرِ امور
  • 4خلق کی ابتدا اور اعادہ
  • 4مومنوں کو انصاف کے ساتھ جزا
  • 4کافروں کے لیے سخت عذاب
  • 5سورج روشن اور چاند منور
  • 5چاند کی منزلیں اور برسوں کا حساب
  • 5کائنات کی حق کے ساتھ تخلیق
  • 6آیات سے بصیرت پانے کے لیے تقویٰ کی شرط
  • 6رات اور دن کا الٹ پھیر
  • 7اللہ سے ملاقات کی امید نہ رکھنا
  • 7اللہ کی نشانیوں سے غفلت برتنا
  • 7دنیوی زندگی پر راضی اور مطمئن ہو جانا
  • 8جہنم کی آگ غافلوں اور منکرین کا ٹھکانا
  • 8گناہوں کی کمائی ہلاکت کا سبب
  • 9اہل ایمان کو ان کے ایمان کے ذریعے اللہ کی رہنمائی
  • 9نعمتوں والی جنتوں میں بہتی ہوئی نہریں
  • 10آخری دعا کے طور پر حمدِ الٰہی کا ترانہ
  • 10اہلِ جنت کا باہمی سلامتی کا تحفہ
  • 10جنت میں اہل ایمان کی تسبیحِ الٰہی
  • 11انسان پر فورا برائی اور عذاب نازل نہ کرنا
  • 11سرکشوں کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دینا
  • 12تکلیف دور ہونے کے بعد احسان فراموشی اور ناشکری
  • 12تکلیف کے وقت انسان کا گڑگڑا کر دعا مانگنا
  • 12حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے برے اعمال کا خوشنما بننا
  • 13روشن دلائل کے باوجود رسولوں کو جھٹلانا
  • 13پچھلی قوموں کا اپنے ظلم کی بنا پر تباہ ہونا
  • 14انسانوں کو زمین میں جانشین بنانا
  • 14جانشینوں کے اعمال پر اللہ کی کڑی نگاہ
  • 15نافرمانی پر عظیم دن کے عذاب کا خوف
  • 15نبی کا صرف وحیِ الٰہی کی پیروی کرنا
  • 15کفار کا قرآن کو بدلنے کا مطالبہ
  • 16بعثت سے قبل نبی کی گزری ہوئی پاکیزہ زندگی بطور دلیل
  • 16قرآن گھڑنے کے الزام کے خلاف عقل کی دہائی
  • 17اللہ پر جھوٹا بہتان باندھنا
  • 17اللہ کی آیات کو جھٹلانا
  • 17مجرموں کا کبھی فلاح نہ پانا
  • 18اللہ کی ذات کا شرکاء سے پاک و بلند ہونا
  • 18ایسی چیزوں کی پوجا جو نفع و نقصان کی مالک نہیں
  • 18بغیر اجازت شفاعت کا باطل گمان
  • 19انسانیت کا بنیادی طور پر ایک ہی امت ہونا
  • 19فیصلے کو مؤخر کرنے کا سابقہ الٰہی فرمان
  • 20اللہ کے حکم اور فیصلے کا انتظار کرنا
  • 20غیب کا علم صرف اور صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا
  • 20ہٹ دھرمی کی بنیاد پر حسی معجزات کا مطالبہ

یہ آیات پڑھیں ←

آیات 21–4057
  • 21تدبیرِ الٰہی کی تیزی اور برتری
  • 21فرشتوں کے ذریعے انسانوں کی سازشوں کا قلمبند ہونا
  • 21مصیبت ٹلنے کے بعد آیاتِ الٰہی کے خلاف چالیں چلنا
  • 22خشکی اور تری میں انسان کی سیر و سیاحت
  • 22خوف کے عالم میں خالصتاً اللہ ہی کو پکارنا
  • 22سمندری طوفان کا اچانک آنا اور ہلاکت کا گھیر لینا
  • 23اللہ کی طرف حتمی واپسی اور اعمال سے باخبر کیا جانا
  • 23سرکشی کا وبال خود سرکش پر لوٹنا
  • 23نجات پانے کے بعد زمین میں ناحق سرکشی شروع کر دینا
  • 24انسان کا زمین پر مکمل قدرت و اختیار رکھنے کا گمان
  • 24بارش کا برسنا اور زمین سے سرسبز و شاداب نباتات کا اگنا
  • 24رات یا دن میں حکمِ الٰہی کا اچانک آ جانا اور بستیوں کو کاٹ کر رکھ دینا
  • 24غور و فکر کرنے والوں کے لیے آیات کی تفصیلی وضاحت
  • 25دار السلام (سلامتی کا گھر) مومنوں کا اصل ٹھکانا
  • 25مشیتِ الٰہی سے صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی
  • 26اہل ایمان کے چہروں کا سیاہی اور ذلت سے پاک ہونا
  • 26جنت میں ہمیشہ کا قیام
  • 26نیکوکاروں کے لیے حسنٰی (جنت) اور مزید فضل
  • 27اللہ کے عذاب سے بچانے والے کا نہ ہونا
  • 27برائی کا بدلہ اسی کے مثل
  • 27گناہگاروں کے چہروں پر ذلت اور سیاہی کا چھا جانا
  • 28تمام مخلوق کا حشر
  • 28شریکوں کا اپنی عبادت سے انکار
  • 28مشرکوں اور ان کے شریکوں کے درمیان جدائی
  • 29باطل معبودوں کا اپنی عبادت سے یکسر بے خبر ہونا
  • 29بندوں کے درمیان اللہ کی فیصلہ کن گواہی
  • 30ان کے حقیقی مولا اللہ کی طرف لوٹایا جانا
  • 30خود ساختہ معبودوں کا گم ہو جانا
  • 30ہر نفس کا اپنے پیش کردہ اعمال کا مشاہدہ
  • 31آسمان اور زمین سے رزق
  • 31تمام امور کی تدبیر اللہ کے ہاتھ میں
  • 31ربوبیت کا اقرار تقویٰ کا تقاضا کرتا ہے
  • 31زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنا
  • 31سماعت اور بصارت کی مالکیت
  • 32اللہ ہی حقیقی ربّ ہے
  • 32حق سے تجاوز کے بعد گمراہی کا حتمی ہونا
  • 33فاسقوں پر ربّ کے کلمے کا سچ ثابت ہونا
  • 33فاسقوں کا ایمان سے محروم رہنا
  • 34اللہ کی ابتدائے خلق اور اعادے پر قدرت
  • 34شریکوں کا خلق کی ابتدا و اعادہ سے عاجز ہونا
  • 34کھلے حق سے اعراض پر نکیر
  • 35حق کی طرف صرف اللہ کی ہدایت
  • 35ہادی اور عاجز کو برابر ٹھہرانے کے ناروا فیصلے پر نکیر
  • 35ہادی ہی اتباع کا زیادہ حق دار ہے نہ کہ محتاجِ ہدایت
  • 36بندوں کے اعمال پر اللہ کے علم کا احاطہ
  • 36حق کے مقابلے میں ظن کا بے فائدہ ہونا
  • 37اللہ کے سوا کسی کا قرآن گھڑنا ناممکن ہے
  • 37ربّ العالمین کی نازل کردہ کتاب کی تفصیل
  • 37سابقہ آسمانی کتب کی تصدیق
  • 38اپنے دعوے کے اثبات کے لیے غیر اللہ سے مدد طلب کرنا
  • 38تمام مخلوق کو اس جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج
  • 38نبی پر قرآن گھڑنے کے الزام کا ابطال
  • 39تاویل آنے سے پہلے قرآن کا انکار
  • 39جس کا علم نہیں اُس کو جھٹلانا
  • 39پہلے جھٹلانے والے ظالموں کے انجام سے عبرت
  • 40لوگوں کا قرآن پر ایمان لانے والوں اور جھٹلانے والوں میں تقسیم
  • 40مفسدین کے بارے میں ربّ کا محیط علم

یہ آیات پڑھیں ←

آیات 41–6047
  • 41ایک دوسرے کے اعمال و عقائد سے براءت کا اعلان
  • 41نبی کے عمل کا جھٹلانے والوں کے عمل سے جدا ہونا
  • 42بغیر فائدے کے ظاہری سماعت
  • 42عقل معطل کرنے والے بہروں کو سنانے میں بشر کی بے بسی
  • 43بصیرت سے خالی محض دیکھنا
  • 43ہٹ دھرم اندھوں کو ہدایت دینے میں رسول کی بے بسی
  • 44اللہ کا بندوں پر ظلم سے پاک ہونا
  • 44کفر و معاصی سے انسان کا اپنی جان پر ظلم
  • 45اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والوں کا عظیم خسارہ
  • 45حشر کے دن مخلوق کا باہمی تعارف
  • 45دنیا کی مدت کا دن کی ایک گھڑی جیسا محسوس ہونا
  • 46بندوں کے تمام اعمال پر اللہ کی گواہی
  • 46تمام مخلوق کا اللہ کی طرف حتمی لوٹنا
  • 46نبی کو کچھ وعید دکھانا یا اس سے پہلے وفات دینا
  • 47لوگوں کے درمیان بلا ادنیٰ ظلم عادلانہ فیصلہ
  • 47ہر امت کے لیے رسول کا مقرر کیا جانا
  • 48وعدۂ عذاب کا وقت پوچھنا
  • 48وعید و تہدید کی سچائی میں شک
  • 49نبی کا نفع و نقصان کا مالک نہ ہونا مگر اللہ کی مشیت سے
  • 49ہر امت کے لیے مقررہ مدت جو آگے پیچھے نہیں ہوتی
  • 50عذاب کا رات کو یا دن کو اچانک آنا
  • 50مجرموں کا ہلاکت خیز عذاب میں جلدی مچانے کی حماقت
  • 51عذاب آنے کے بعد اضطراری ایمان کا بے سود ہونا
  • 51پہلے عذاب میں جلدی مچانے پر کافروں کی سرزنش
  • 52ظالموں کا دائمی عذاب چکھنا
  • 52مجرموں کے اعمال کے مطابق عادلانہ بدلہ
  • 53اللہ کی گرفت سے بھاگنے میں انسان کی بے بسی
  • 53بعث کی سچائی پر ربّ کی قسم
  • 53کافروں کا عذاب کی حقیقت کے بارے میں شکوک آمیز سوال
  • 54عذاب دیکھتے وقت ندامت کا چھپانا
  • 54عذاب سے بچنے کے لیے زمین بھر فدیہ دینا اور اس کا بے سود ہونا
  • 54قسط کے ساتھ فیصلہ اور ظلم کی مکمل نفی
  • 55آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں پر اللہ کی خالص ملکیت
  • 55اللہ کے وعدے کا برحق ہونا اور اس کا لازمی پورا ہونا
  • 55اکثر انسانوں کی اللہ کے وعدے اور اس کی حکمت سے بے علمی
  • 56حساب کے لیے تمام روحوں کی خالق کی طرف حتمی واپسی
  • 56زندگی دینے اور موت وارد کرنے پر اللہ کا اکیلا اختیار
  • 57اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت
  • 57تمام انسانوں کے لیے ربانی نصیحت و وعظ
  • 57سینوں کی بیماریوں اور دلوں کے امراض کے لیے روحانی شفا
  • 58دنیاوی جمع پونجی کے مقابلے میں وحی اور ایمان کی فضیلت
  • 58وحی کے فضل اور رحمت پر جائز مسرت کا اظہار
  • 59بغیر اجازتِ الٰہی پابندیاں عائد کرنے والوں کی بازپرس
  • 59حلال و حرام کی قانون سازی میں اللہ پر بہتان باندھنا
  • 60انسانوں پر اللہ کا بے پایاں فضل و احسان
  • 60اکثر لوگوں کا ناشکرا پن اور اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا
  • 60قیامت کے دن اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا برا انجام

یہ آیات پڑھیں ←

آیات 61–8049
  • 61زمین و آسمان میں ذرہ برابر چیز کا بھی اللہ کے علم سے پوشیدہ نہ رہ سکنا
  • 61کھلی کتاب میں ہر چھوٹے بڑے معاملے کا محفوظ اندراج
  • 61ہر کام، تلاوت اور عمل پر اللہ کی حاضری اور گواہی
  • 62اولیائے الٰہی کی حقیقت اور ان کا بلند مرتبہ
  • 62دونوں جہانوں میں اولیائے کرام کا خوف اور رنج سے بے خوف ہونا
  • 63اللہ پر سچا اور پختہ توحیدی ایمان
  • 63خلوت اور جلوت میں ہمہ وقت تقویٰ پر قائم رہنا
  • 64اللہ کے فرمودات کا اٹل ہونا اور ان میں کوئی تبدیلی نہ ہونا
  • 64دنیا کی زندگی اور آخرت میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری
  • 64رضائے الٰہی اور جنت کے ذریعے عظیم کامیابی پانا
  • 65اللہ کا ہر بات کو سننے والا اور جاننے والا ہونا
  • 65تمام عزت اور غلبے کا تنہا اللہ کے لیے ہونا
  • 65کفار کی باتوں پر رنجیدہ نہ ہونے کے لیے نبی کی تسلی
  • 66آسمانوں اور زمین کے تمام باسیوں پر اللہ کا مکمل تسلط
  • 66اللہ کے سوا من گھڑت شریکوں کی پیروی کا بطلان
  • 66شرک کی بنیاد کا محض جھوٹے گمان اور اٹکل پچو پر ہونا
  • 67جسمانی راحت اور سکون کے لیے رات کا بنایا جانا
  • 67غور سے سننے اور سمجھنے والوں کے لیے کائناتی نشانیاں
  • 67معاش کی تلاش اور دیکھنے کے لیے دن کو روشن بنانا
  • 68اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنے کے جھوٹ کا بطلان
  • 68اللہ کے بارے میں بغیر علم کے باتیں کرنے کی ممانعت
  • 68اپنی مخلوق سے اللہ کی مطلق بے نیازی
  • 68شرک اور من گھڑت عقائد پر کسی دلیل کا نہ ہونا
  • 69اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا فلاح و نجات سے محروم رہنا
  • 70دنیوی آسائشوں کی بے ثباتی اور جلد ختم ہونا
  • 70مسلسل کفر کی پاداش میں شدید عذاب کا مزہ چکھنا
  • 71حضرت نوح کی اپنی قوم کو نصیحت اور دلائل کے ساتھ دعوت
  • 71دشمنوں کی سازشوں کے عروج پر اللہ پر کامل بھروسہ
  • 71مشرکین اور ان کے شرکاء کو بلا خوف و خطر کھلا چیلنج
  • 72اللہ کے فرمانبردار اور مخلص مسلمان ہونے کا الٰہی حکم
  • 72تبلیغِ دین پر دنیاوی اجرت نہ مانگنا اور اجر اللہ پر چھوڑنا
  • 73آیاتِ الٰہی کو جھٹلانے والوں کا طوفان میں غرق ہونا
  • 73نجات پانے والے مومنوں کو زمین کا جانشین بنانا
  • 73ڈرائے گئے سرکشوں کے برے انجام سے حاصل ہونے والی عبرت
  • 73کشتی میں حضرت نوح اور ان کے باایمان ساتھیوں کی نجات
  • 74آباء کی پرانی تکذیب پر اصرار اور ایمان سے گریز
  • 74حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر ان کے ظلم کی پاداش میں مہرِ الٰہی
  • 74حضرت نوح کے بعد رسولوں کا روشن دلائل کے ساتھ اپنی قوموں کی طرف آنا
  • 75حضرت موسیٰ اور ہارون کا بڑی نشانیوں کے ساتھ بھیجا جانا
  • 75فرعون اور اس کے درباریوں کا تکبر اور جرائم میں ڈوبنا
  • 76اللہ کے ہاں سے واضح حق کا آنا
  • 76انبیاء کے معجزات پر صریح جادو ہونے کا بہتان
  • 77جادوگروں کی دائمی ناکامی اور کامیابی سے محرومی
  • 77حضرت موسیٰ کی طرف سے حق کو جادو کہنے کی سخت مذمت
  • 78آباء و اجداد کی روایات پر اندھا دھند اصرار
  • 78حضرت موسیٰ اور ہارون پر سرداری اور سیاسی غلبہ پانے کا الزام
  • 78رسولوں پر ایمان لانے سے تکبر پر مبنی قطعی انکار
  • 79تمام ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا فرعونی حکم
  • 80حضرت موسیٰ کا جادوگروں کو اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پہلے ڈالنے کا حکم

یہ آیات پڑھیں ←

آیات 81–10050
  • 81جادوگروں کے جادو کو اللہ کی طرف سے باطل کر دیے جانے کا یقین
  • 81حضرت موسیٰ کی طرف سے ان کے کرتب کو باطل جادو قرار دینا
  • 81مفسدوں کے کام کو درست اور کامیاب نہ کرنے کی الٰہی سنت
  • 82حق کے غلبے اور ظہور پر مجرموں کی ناگواری اور بغض
  • 82کلماتِ الٰہی اور قدرت کے ذریعے حق کا ثبات اور غلبہ
  • 83حضرت موسیٰ کی قوم کے چند نوجوانوں کا ایمان لانا
  • 83زمین میں فرعون کا تکبر، سرکشی اور ظلم میں حد سے بڑھنا
  • 83فرعون اور اس کے سرداروں کے فتنے اور ظلم کا خوف
  • 84توکل کا اللہ کی اطاعت اور سچے اسلام کے لیے لازمی تقاضا ہونا
  • 84حضرت موسیٰ کی اپنی قوم کو خالصتاً اللہ پر توکل کرنے کی نصیحت
  • 85اہل ایمان کا صرف اور صرف اللہ پر کامل توکل کا اعلان
  • 85ظالموں کے تسلط اور ان کے فتنے سے محفوظ رہنے کی دعا
  • 86کافروں سے نجات کے لیے اللہ کی رحمت کا وسیلہ مانگنا
  • 87ثابت قدم اہل ایمان کو نصرت اور کشادگی کی خوشخبری سنانا
  • 87مصر میں حضرت موسیٰ اور ہارون کو گھروں کو عبادت گاہ بنانے کی وحی
  • 87گھروں کو قبلہ رخ بنانا اور ان میں باقاعدگی سے نماز قائم کرنا
  • 88ظالموں کے گمراہ کن مال و دولت کی بربادی کی دعا
  • 88عذابِ الیم چکھنے تک سرکشوں کے دلوں کے مزید سخت ہونے کی بددعا
  • 88فرعون اور اس کے درباریوں کو آزمائش اور مہلت کے طور پر ساز و سامان دینا
  • 89حضرت موسیٰ اور ہارون کی دعا کی الٰہی قبولیت کا اعلان
  • 89حق پر مکمل استقامت اور ثابت قدمی اختیار کرنے کا حکم
  • 89نادانوں اور جاہلوں کے راستے پر چلنے کی سخت ممانعت
  • 90اللہ کے فضل اور قدرت سے بنی اسرائیل کا معجزانہ طور پر سمندر پار کرنا
  • 90سرکشی اور دشمنی کے ساتھ فرعون اور اس کے لشکر کا مومنوں کے پیچھے آنا
  • 90موت کو سامنے دیکھ کر مجبوری میں لائے گئے ایمان کا باطل ہونا
  • 90ڈوبتے وقت فرعون کا توحید اور اسلام کا اقرار کرنا
  • 91فرعون کی گزشتہ نافرمانی اور اس کا مفسدوں میں شامل ہونا
  • 91ہلاکت کے وقت تک توبہ مؤخر کرنے پر فرعون کی سخت مذمت
  • 92اکثر انسانوں کا اللہ کی نشانیوں اور تاریخی عبرتوں سے غافل رہنا
  • 92فرعون کے جسم کو بچا لینا تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عبرت کا نشان بنے
  • 93بنی اسرائیل کو عزت والا اور محفوظ ٹھکانا عطا کرنا
  • 93بنی اسرائیل کو پاکیزہ رزق عطا فرمانا
  • 93علم کے آ جانے کے بعد باہمی ضد سے اختلاف کا پیدا ہونا
  • 93قیامت کے دن اختلاف کرنے والوں کے درمیان اللہ کا عادلانہ فیصلہ
  • 94رب کی طرف سے قطعی اور برحق سچائی کی آمد
  • 94شک دور کرنے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے اہل کتاب کی گواہی پیش کرنا
  • 94وحی کے بارے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ میں پڑنے کی قطعی ممانعت
  • 95آیاتِ الٰہی کو جھٹلانے والوں میں شامل ہونے کی ممانعت
  • 95تکذیب کی وجہ سے کھلے اور ابدی خسارے میں مبتلا ہونا
  • 96جن پر بدبختی کا فیصلہ ہو چکا ان کے ایمان لانے کا ناممکن ہونا
  • 96ہٹ دھرموں پر رب کے فیصلے کا سچا ثابت ہونا
  • 97دردناک عذاب کو کھلی آنکھوں دیکھے بغیر ایمان نہ لانا
  • 97مہر شدہ دلوں کے مالک سرکشوں کے لیے کسی بھی نشانی کا کارگر نہ ہونا
  • 98بر وقت اجتماعی ایمان لانے سے قومِ یونس کا بے مثال فائدہ پانا
  • 98توبہ کرنے والوں کو ان کی مقررہ مدت تک دنیا کی زندگی سے لطف اندوز ہونے کی مہلت دینا
  • 98خالص توبہ کے نتیجے میں قومِ یونس سے دنیاوی رسوائی کے عذاب کا ٹل جانا
  • 99انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کرنے کی سخت ممانعت
  • 99زمین کے تمام انسانوں کے ایمان کا کلیتاً مشیتِ الٰہی پر منحصر ہونا
  • 100ایمان کا حصول صرف اور صرف اذنِ الٰہی اور توفیق سے ممکن ہونا
  • 100عقل سے کام نہ لینے والوں پر روحانی گندگی اور عذاب کا مسلط کیا جانا

یہ آیات پڑھیں ←

آیات 101–10923
  • 101آسمانوں اور زمین کے عجائب پر غور و فکر کی ترغیب
  • 101بے ایمان قوم کے لیے نشانیوں اور ڈرانے والوں کا بے اثر ہونا
  • 102الٰہی فیصلے کے لیے نبی کا محتاط انتظار
  • 102سابقہ جھٹلانے والی قوموں کے دنوں جیسے عذاب کی توقع
  • 103اہل ایمان کو بچانے کی اللہ کی اپنے ذمہ لازم کردہ ذمہ داری
  • 103منکرین کی ہلاکت کے وقت رسولوں کو الٰہی نجات ملنا
  • 104ثابت قدمی کے ساتھ اہل ایمان میں شامل رہنے کا الٰہی حکم
  • 104سچے دین میں شک کے حوالے سے انسانوں سے خطاب
  • 104صرف اسی اللہ کی عبادت جو جانیں قبض کرتا ہے
  • 104من گھڑت بتوں اور باطل معبودوں کی پوجا سے قطعی انکار
  • 105دینِ حنیف کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہونا
  • 105مشرکوں میں شامل ہونے کی سخت اور قطعی ممانعت
  • 106اللہ کے سوا بے اختیار باطل ہستیوں سے دعا مانگنے کی ممانعت
  • 106غیر اللہ کو پکارنے کو ظلمِ عظیم قرار دینا
  • 107اللہ کے اسمائے مبارکہ: غفور اور رحیم
  • 107تکلیف اور مصیبت کو دور کرنے پر صرف اللہ کا قادر ہونا
  • 107جس کے لیے اللہ چاہے اس کے فضل کو کسی کا نہ روک سکنا
  • 108تمام انسانوں کے پاس ان کے رب کی طرف سے واضح حق کا آنا
  • 108نبی کا صرف خبردار کرنے والا ہونا اور انسانوں پر داروغہ نہ ہونا
  • 108ہدایت اور گمراہی کے نتائج کا خود انسان کی ذات پر لوٹنا
  • 109اللہ کا بہترین اور سب سے زیادہ عادل حاکم ہونا
  • 109اللہ کے عادلانہ فیصلے کے صادر ہونے تک صبر و استقامت
  • 109رسول پر نازل ہونے والی وحیِ الٰہی کی مکمل پیروی

یہ آیات پڑھیں ←

◉ پارہ 11مکی109 آیات
Prophethood — 67%History — 33%
آیات کے لہجے کی ترقی
Command (آیات 1–1)Warning (آیات 2–2)Command (آیات 3–3)Promise (آیات 4–4)Command (آیات 5–5)Praise (آیات 6–6)Promise (آیات 7–7)Warning (آیات 8–8)Command (آیات 9–9)Praise (آیات 10–10)Warning (آیات 11–11)Promise (آیات 12–12)Warning (آیات 13–13)Command (آیات 14–14)Warning (آیات 15–15)Command (آیات 16–16)Warning (آیات 17–17)Praise (آیات 18–18)Command (آیات 19–19)Warning (آیات 20–20)Consolation (آیات 21–21)Warning (آیات 22–22)Promise (آیات 23–23)Command (آیات 24–24)Consolation (آیات 25–25)Praise (آیات 26–26)Warning (آیات 27–28)Promise (آیات 29–29)Warning (آیات 30–30)Command (آیات 31–31)Praise (آیات 32–32)Warning (آیات 33–34)Command (آیات 35–35)Narrative (آیات 36–36)Warning (آیات 37–37)Command (آیات 38–38)Narrative (آیات 39–39)Command (آیات 40–40)Promise (آیات 41–41)Command (آیات 42–42)Warning (آیات 43–43)Promise (آیات 44–44)Warning (آیات 45–45)Promise (آیات 46–46)Command (آیات 47–48)Promise (آیات 49–49)Warning (آیات 50–50)Promise (آیات 51–51)Warning (آیات 52–53)Command (آیات 54–54)Promise (آیات 55–55)Command (آیات 56–56)Consolation (آیات 57–57)Praise (آیات 58–58)Command (آیات 59–59)Warning (آیات 60–60)Command (آیات 61–61)Consolation (آیات 62–62)Command (آیات 63–63)Praise (آیات 64–65)Warning (آیات 66–66)Promise (آیات 67–67)Command (آیات 68–68)Warning (آیات 69–69)Command (آیات 70–71)Promise (آیات 72–72)Warning (آیات 73–73)Command (آیات 74–75)Promise (آیات 76–77)Consolation (آیات 78–78)Warning (آیات 79–81)Command (آیات 82–82)Warning (آیات 83–83)Command (آیات 84–84)Promise (آیات 85–85)Consolation (آیات 86–86)Promise (آیات 87–87)Warning (آیات 88–88)Consolation (آیات 89–89)Promise (آیات 90–90)Warning (آیات 91–91)Consolation (آیات 92–92)Command (آیات 93–93)Warning (آیات 94–95)Command (آیات 96–96)Warning (آیات 97–99)Promise (آیات 100–100)Warning (آیات 101–101)Command (آیات 102–102)Consolation (آیات 103–103)Command (آیات 104–104)Promise (آیات 105–105)Command (آیات 106–106)Warning (آیات 107–107)Command (آیات 108–108)Consolation (آیات 109–109)014284256708498
Command
Narrative
Promise
Warning
Consolation
Praise
مفاہیم کا ہم وقوع
اللہعلم350
اللہایمان306
زمینآسمان221
جھوٹتکذیب200
اللہزمین186
اللہآگ کا عذاب127
اللہاعمال آخرت126
اللہآسمان126
اللہظلم107
ایماناعمال آخرت100
اکثر پوچھے گئے سوالات
What is Surah Yunus?
سورہ Yunus (يونس) قرآن مجید کی 10ویں سورہ ہے، جو 109 آیات پر مشتمل ہے اور مکہ میں نازل ہوئی۔
What are the main themes of Surah Yunus?
سورہ Yunus کے بنیادی موضوعات عقیدہ، روحانیت اور کونیات ہیں۔
Which key figures are mentioned in Surah Yunus?
سورہ Yunus میں موسیٰ اور بنی اسرائیل نمایاں طور پر مذکور ہیں۔
Is Surah Yunus Meccan or Medinan?
سورہ Yunus مکی ہے؛ یہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی 109 آیات ہیں۔
پڑھیں یونس — تمام 109 آیات
Arabic text · Translation · Tafseer · Audio · Concept tags
مکمل سورہ پڑھیں ←