سورۃ یونس — آیت ۹۱
حَتّٰیٓ اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو :
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔
بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» [26-الشعراء:61] ” لو اب پکڑ لیے گئے “ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔
موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» [26-الشعراء:62] ” میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں “۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔
اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ” اپنی لکڑی دریا پر مار دے “۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آ گئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔
پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہو گئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کر کے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کر دئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔
اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ” اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا “۔
فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے ۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔
چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو ۔ [صحیح بخاری:1130]
آلن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ (ا اللہ نے فرمایا 🙂 کیا اب (تجھے یقین ہوا اور تو نے مانا) حالانکہ اس سے پہلے (ساری عمر) تو نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پیدا کرنے والوں میں رہا۔ خود بھی گمراہ رہا اور دوسروں کو بھی ایمان سے بہکاتا رہا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اللہ فرعون کو غرق کرنے لگا (یعنی بحکم خدا فرعون ڈوبنے لگا) تو بولا : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لاآ اِلٰہَ الاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَت بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ ۔ حضرت جبرئیل نے (رسول اللہ (ﷺ) سے) کہا : محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں سمندر کی کیچڑ ٹھونس رہا تھا کیونکہ مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں اللہ کی رحمت اس کو پہنچ جائے (اور مرنے سے پہلے اس کی توبہ قبول ہوجائے) ۔
فائدہ : جلال الدین دوّانی کا قول ہے کہ فرعون نے چونکہ کلمۂ توحید زندگی میں پڑھ لیا تھا ‘ اسلئے (اس کی توبہ قبول ہوگئی اور) وہ مسلمان مرا۔ دوّانی نے اس قول میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی پیروی کی ہے۔ ابی عربی کا بھی یہی قول ہے کہ فرعون پاک مرا۔
حق یہ ہے کہ شیخ کا قول ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔ آپ کے سکر کی حالت کے بکثرت الفاظ شرع کے مطابق نہیں ہیں۔ شیخ کا فرعون کے متعلق یہ قول بھی اجماع علماء کے خلاف ہے اور صحیح احادیث سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
دوّانی نے کہا : فرعون کا دوزخی ہونا کسی آیت سے ثابت نہیں۔ جس جس آیت میں عذاب دوزخ سے ڈراوا دیا گیا ہے ‘ وہ آل فرعون کو دیا ہے ‘ فرعون کو نہیں دیا گیا۔ دیکھو اللہ نے فرمایا ہے : اَدْخِلُوْا اٰل فِرْعُوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ نَاَوْرَدَھُمْ النَّار فرعون نے اپنے متبعین کو دوزخ میں اتار دیا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرًْعُوْنَ سُوْٓہُ الْعَذَابِآل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کی وجہ سے فرعون کو عذاب نہ ہوگا بلکہ مخلوق پر چونکہ اس نے مظالم کئے تھے ‘ اسلئے اس کو عذاب ہوگا۔ بندوں کے حقوق معاف نہیں کئے جائیں گے۔
میں کہتا ہوں : دوّانی کی یہ دلیل لغو ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَحَشَرَ فَنَادٰی فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمْ الْاَعْلٰی فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی فرعون نے سب کو جمع کر کے کہا : میں تم سب کا رب اعلیٰ ہوں۔ آخر اللہ نے اس کی پکڑ کی اور اس کو دنیا و آخرت میں (یا اگلوں پچھلوں کیلئے) عبرت بنا دیا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفر کی وجہ سے آخرت میں فرعون پر عذاب ہوگا۔ دوسری آیت میں حضرت موسیٰ کی دعا نقل کی ہے : اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاَہٗ الخ۔ اس کے آخر میں فرمایا ہے : قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُما۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کیلئے بددعا کی تھی اور درخواست کی تھی کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو اور یہ دعا قبول کرلی گئی ‘ پس کفر پر اس کا خاتمہ ہوگا۔ اس کا انکار آیت کا انکار ہے۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔
مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا۔ ایک، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوتِ حق کی تکمیل ہوچکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے ۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انھیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصامارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا، اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستہ سے بآسانی پار ہوگئے۔
فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزررہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیاتھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے تھاکہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا، حالاں کہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لیے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لیے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا۔ اس نے ’’دریا‘‘ کو دیکھا مگر ’’خدا ‘‘ کو نہیں دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کرسکتاہے۔
اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہوا تھا، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خداکے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے، نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔
خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے، اس کا نمونہ دور رِسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدانے مستقل طورپر محفوظ کرديے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانے میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جب کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انھیں میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعونِ موسیٰ (رعمیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔